57

قول وفِعل میں تضادوالے کے اَنجام کا بیان

با ب نمبر : 24 قول وفِعل میں تضادوالے کے اَنجام کا بیان
اس شخص کے بُرے اَنجام کا بیان جو نیکی کا حکم د ے ، بُرائی سے منع کرےمگر اُس کا قول وعمل ایک دوسرے کے خلاف ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف یعنی نیکی کا حکم دینا اور نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی بُرائی سے منع کرنا ایک عظیم کام ہے ، یقیناً جسے اِن دونوں کاموں کی توفیق دی گئی وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے مگر بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو دوسروں کو تو نیکی کی دعوت دے مگر خود نیکیوں سے دُور بھاگے ، دوسروں کو تو بُرائی سے منع کرے مگر خود بُرائیوں میں دن رات مصروفِ عمل رہے۔ اپنی اِصلاح کی طرف بالکل توجہ نہ دے ، ایسا شخص بے عمل مبلغ ہے اور بے عمل مبلغ کے بارے میں قرآن وسنت میں بہت سخت وعیدیں ذکر کی گئی ہیں۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی ایسے ہی شخص کے بُرے انجام کے بارے میں ہے جودوسروں کو تو نیکی کا حکم دے ، بُرائی سے منع کرے مگر خود اس کےقول وفعل میں تضاد ہو۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں3 آیات اور 1حدیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہے ۔ پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1)دوسروں کوبھلائی کا حکم دینا اور خود کو بھول جانا
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴) (پ۱ ، البقرۃ : ۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان : کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
بعض مسلمانوں نے اپنے رشتہ دار علمائے یہود سے اسلام کے متعلق پوچھا کہ یہ دِین سچا ہے یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا : دِین اسلام پر قائم رہوکہ اسلام سچا دِین ہے اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کلام سچا ہے۔ اِس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں علمائے یہود سے فرمایاگیا کہ تم لوگوں کو تو اسلام پر قائم رہنے کی تلقین کرتے ہو مگر خود ایمان نہیں لاتے۔ (1)

______________________________1 – تفسیر خازن ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الایۃ : ۴۴ ، ۱ / ۵۰۔

مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ بے عمل واعظ یا عالِم رب کو ناپسند ہے ، بہترین واعظ وہی ہے جس کا عمل قول سے زیادہ وعظ وتبلیغ کرے ، اسے دیکھ کر لوگ متقی بن جائیں۔ ‘‘(_____
1 – نورالعرفان ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۴۴۔

(2)عمل اور قول کی موافقت
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳)
(پ۲۸ ، الصف : ۲ ، ۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتےکیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔

عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’اے ایمان والو!جنہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی ، تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کی تصدیق اپنے عمل سے نہیں کرتے۔ پس تمہارے اعمال تمہارے قول کے مخالف ہیں۔ ‘‘(- تفسیر طبری ، پ۲۸ ، الصف ، تحت الایۃ : ۲ ، ۱۲ / ۷۹۔ )
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس آیت میں بہت سی صورتیں داخل ہیں ، لوگوں کو اچھی باتیں بتائے مگر خود عمل نہ کرے ، یعنی بے عمل واعظ لوگوں کو اچھائی بتائے مگر خود برائیاں کرے جیسے بدعمل واعظ کسی سے وعدہ کرے وہ پورا نہ کرے یعنی وعدہ خلاف وعدہ کرتے وقت ہی خیال کرے کہ یہ کام کروں گا ہی نہیں ، صرف زبانی وعدہ کئے لیتا ہوں۔ یعنی دھوکہ بازی ، ان تمام باتوں سے یہاں روکا گیا ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ جائز وعدہ پورا کرنا ضروری ہے ، خواہ ربّ سے کیا گیا ہو یا شیخ سے یا کسی بندے سے یابیوی سے۔ اولیاء اللہ کی نذر پورا کرنا بھی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے ، نیز معلوم ہوا کہ عالم واعظ کو باعمل ہونا چاہیے۔ ناجائز وعدے ہرگزپورے نہ کرے ، اگر اس

پر قسم بھی کھائی ہو تو توڑ دے اور کفارہ ادا کردے۔ ‘‘(1)
(3)دوسروں کو منع کرنا، خود بھی وہ کام نہ کرنا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ- (پ۱۲ ، ھود : ۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کا خِلاف کرنے لگوں۔
اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’مذکورہ آیت میں تحقیق کلام یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ان کے حَلِیْمیعنی بُردبارو رشیدیعنی نیک طبیعت والا ہونے کا اعتراف کیا تھااور ان کا یہ اعتراف کرنا آپ کی کمالِ عقل پر دلالت کرتا ہے اور جو کامل عقل والا ہو عقل اس کو درست اور صحیح سمت کے اختیار کرنے پر اُبھارتی ہے۔ گویا کہ حضرت سیدنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سےفرمایا کہ ’’جب تم میرے کمالِ عقل کے معترِف ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میری عقل نے میرے لئے جو بات پسند کی ہے وہ وہی ہو گی جو سب سے درست اور بہتر ہو اور وہ خدا کی وحدانیت کی دعوت دینا اور ناپ تول میں کمی کو ترک کرنا ہے۔ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کی تعظیم کرنے اور مخلوقِ خدا پر شفقت کرنے کا پابندی سے عامل ہوں اور کسی صورت ان میں سے کسی چیز کو چھوڑنے والا نہیں۔ پس جب تم میرے حِلم ورُشد کے معترف ہو اور تم دیکھتے ہو کہ میں اُس راستے کو چھوڑنے والا نہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہی طریقہ سب سے بہتر ، یہی دِین اور شریعت سب سے زیادہ شرف والی ہے۔ ‘‘(2)
عَلَّامَہْ جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا ابنِ اَبی حاتم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور ابو شیخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےاِس آیت کے

__بارے میں روایت کیا ہےکہ حضرت سیدنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا : یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تمہیں کسی معاملے سے منع کروں اور پھر خود ہی اِس کا اِرتکاب کروں ۔ ‘‘(1)

______________________________
1 – نورالعرفان ، پ۲۸ ، الصف ، تحت الآیۃ : ۲ ، ۳۔
2 – تفسیرکبیر ، پ۱۲ ، ھود ، تحت الایۃ : ۸۸ ، ۶ / ۳۸۸۔

حدیث نمبر : 198 بے عمل مبلغ کا انجام
وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُوْرُ بِهَا كَمَا يَدُوْرُ الْحِمَارُ فِی الرَّحَا فَيَجْتَمِعُ اِلَيْهِ اَهْلُ النَّارِ فَيَقُوْلُوْنَ يَا فُلَانُ مَا لَكَ؟ اَلَمْ تَكُ تَاْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ : بَلٰى كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيْهِ وَاَنْهٰى عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيْهِ.(2)
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو زید اُسامہ بن زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ : ’’قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گااور جہنم میں ڈال دیا جا ئے گا ، اس کی آنتیں پیٹ سے باہر نکل پڑیں گی ، وہ ان آنتوں کے ساتھ اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔ تمام دوزخی اس کے پاس جمع ہوں گے اور کہیں گے : اے فلاں !تجھے کیا ہوا؟ کیا تو بھلائی کا حکم نہ دیتا تھا اور برائی سے منع نہ کرتا تھا؟ تو وہ کہے گا : ہاں! میں دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہ کرتا تھا اور دوسروں کو تو برائی سے منع کرتا تھا لیکن خود اس برائی سے نہ بچتا تھا۔ ‘‘
بے عمل بھی نیکی کا حکم دے سکتا ہے:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے مذکورہ حدیث پاک کے تحت دو اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں : (1)جو بھی نیکی کا حکم دینے پر قدرت رکھتا ہو اور اسے اپنی جان پر کسی قسم کا خوف نہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ نیکی کا حکم دے خصوصاً جب کہ وہ خود بھی اس پر عمل کرتا ہو۔ البتہ اگر وہ خود عمل نہ کرتا ہو تب

بھی نیکی کا حکم دے کیونکہ اس صورت میں بھی اسے نیکی کا حکم دینے پر اجر ضرور ملے گا۔ باقی رہا اس کے عمل نہ کرنے یا گناہ میں مبتلا رہنے کا معاملہ تو وہ اس کا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کا معاملہ ہے ، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو اس گناہ پر اس کا مؤاخذہ فرمائے۔ (2)نیکی کا حکم صرف وہی دے جو نیک ہو یا گنہگار بھی دے سکتا ہے؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں : ایک قول تو یہ ہے کہ بہتر یہی ہے کہ نیکی کا حکم وہی دے جو خود بھی اس پر عمل کرتا ہو اور گنہگار نہ ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ گناہگار نیکی کا حکم نہیں دے سکتا۔ تو یہ قول درست نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو جہاں کوئی بھی نیک بندہ نہ ہو وہاں تو نیکی کی دعوت کا دروازہ ہی بند ہوجائے گا۔ ‘‘(1)
اپنی اصلاح کی کوشش جاری رکھے:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث شریف میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والا خود بھی با عمل ہو اور اگر وہ خود اچھے اعمال نہیں کرتا اور برائی سے اجتناب نہیں کرتا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باعمل آدمی کی تبلیغ سے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی اور یوں اس کا اپنا عمل دوسروں کے عمل کے لئے ترغیب و تحریص کا کام دیتا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اگر کوتاہی یا لاپرواہی کی وجہ سے مبلغ اعمالِ صالحہ سے کنارہ کشی رکھتا ہے یا نفس و شیطان کے دھوکے میں آکر برائی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے امر بالمعروف (یعنی نیکی کا حکم دینے)اور نہی عن المنکر (یعنی برائی سے منع کرنے) کا فریضہ انجام دینے سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہیے بلکہ ساتھ ساتھ اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ ‘‘(2)

________________________________
1 – فتح الباری ، کتاب الفتن ، باب الفتنۃ التی تموج کموج البحر ، ۱۴ / ۴۶ ، تحت الحدیث : ۷۰۹۸۔
2 – مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۰۵مکتبہ اسلامیہ۔

 

________________________________
1 – در منثور ، پ۱۲ ، ھود ، تحت الایۃ : ۸۸ ، ۴ / ۴۶۷۔
2 – مسلم ، کتاب الزھد والرقائق ، باب عقوبۃ من یامر بالمعروف ولایفعلہ وينهى عن المنكر ويفعله ، ص۱۵۹۵ ، حدیث : ۲۹۸۹۔

 

 

 

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں