116

کچھ نیکیاں کمالے درجات بلند کروانے والی نیکیاں(قسط : 01)

ماہنامہ جنوری2022

اللہ پاک کے کرم و فضل میں سےایک یہ بھی ہےکہ ہمیں کئی ایسی نیکیاں اور اعمال عطا فرمائے جن میں محنت کم مگر ان کے سبب ثواب بہت زیادہ ملتا ہے اور ہمارے درجات بھی بلند ہوتےہیں۔ درجات کی بلندی کی بہت اہمیت ہے ، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اللہ پاک سے بلند درجات کا سوال کیا کرو! اس لئے کہ تم کریم سے سوال کرتے ہو۔ [1]

ایک روایت میں ہے کہ دو عبادت گزار جو کہ برابر برابر عبادت کیا کرتے تھے ، (بروز قیامت) جب انہیں جنّت میں داخل کیا جائے گا تو ایک کو دوسرے کے مقابلے میں بلند درجات عطا کئے جائیں گے۔ اس پر دوسرا عبادت گزار عرض کرے گا : اے میرے ربّ! یہ دنیا میں مجھ سے زیادہ عبادت نہیں کرتا تھا ، پھر کیا وجہ ہے کہ تو نے اسے عِلِّیِّیْن میں بلند درجہ عطا فرمایا؟ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا : وہ دنیا میں مجھ سے بلند درجات کا سوال کیا کرتا تھا اور تو جہنم سے نجات کی دعا مانگا کرتا تھا لہٰذامیں نے ہرایک کو اس کے سوال کے مطابق عطا کردیا۔ [2]

ذیل میں درجات بلند کرنے والی نیکیوں پر مشتمل چھ فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ کیجئے!

(1)بلند درجات ملیں گے : کچھ لوگ ایسے ہیں جو نرم وملائم بستروں پر اللہ پاک کا ذکر کرتے ہیں اﷲ پاک انہیں بلند درجات میں داخل فرمائے گا ۔ [3]

(2)سب سے بلند درجہ : کیا میں تم کویہ خبرنہ دوں کہ تمہارے رب کے نزدیک تمہاراکون ساعمل سب سے اچھا ، سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والاہے اور جو تمہارے سونے اور چاندی کو صدقہ کرنے سے زیادہ اچھاہے اور اس سے بھی اچھا ہے کہ تمہاراتمہارے دشمنوں سے مقابلہ ہو ، تم انہیں قتل کرو اور وہ تمہیں شہید کردیں۔ صحابہ ٔکرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی ، یا رسولَ الله! وہ کون ساعمل ہے ؟ارشاد فرمایا’’وہ عمل الله پاک کا ذکر کرنا ہے۔ “ [4]

(3)10درجات بلند ہوں گے : جبریلِ امین علیہ السّلام میرے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ آپ کا جو بھی اُمّتی آپ پر ایک بار درود شریف پڑھے گا ، اللہ پاک اس پر 10 رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے 10 درجات بلند فرمائے گا۔ [5]

(4)صَف کےخَلاکوپُرکرنا : جو بند ہ صَف کے خَلا کو پُر کرتا ہے اللہ پاک اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور فرشتے اس پر بھلائی نچھاوَر کرتے ہیں ۔ [6]

(5)مظلوم کی مدد کرنا : جو کسی مظلوم کی مدد کرے ، اﷲپاک اس کے لئے 73 مغفرتیں لکھے گا ، ان میں سے ایک سے اس کے تمام کاموں کی درستی ہوجائے گی اور بہتّر 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں گے۔ [7]

(6)نیک اولاد کی دعا : ايك بندے کے جنّت میں درجات بلند ہوں گے تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کرے گا : الٰہی! مجھے یہ بلندیِ درجہ کہاں سے ملی؟ تو اسے کہا جائے گا : تیرے بچے کے تیرے لئے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے۔ [8]

اللہ کریم ہمیں درجات بلند کروانے کیلئے مذکورہ اعمال بجالانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی

[1] طبقات الشافعیۃ الکبری ، 6 / 364

[2] قوت القلوب ، 1 / 374

[3] صحیح ابن حبان ، 1 / 309 ، حدیث : 401

[4] ترمذی ، 5 / 246 ، حدیث : 3388

[5] معجم اوسط ، 5 / 68 ، حدیث : 6602

[6] معجم اوسط ، 3 / 29 ، حدیث : 3771

[7] شعب الایمان ، 6 / 120 ، حدیث : 7670

[8] ابن ماجہ ، 4 / 185 ، حدیث : 3660

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں