سوال نمبر 25

کیا فرماتے ہیں علماء اکرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اگر نکاح ہوا لیکن خلوت نہیں ہوئی اور شوہر فوت ہوجائے تو پورا مہر لازم ہوگا یا نصف؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب

قران پاک میں ہے

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً ۚۖ-وَّ مَتِّعُوْهُنَّۚ-عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗۚ-مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِۚ-حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ۔

سورة البقرہ پارہ ٢ آیت نمبرب۲۳۶)

ترجمۂ  کنزالعرفان: اگر تم عورتوں کو طلاق دیدو توجب تک تم نے ان کو چھوا نہ ہو یا کوئی مہر نہ مقرر کرلیا ہو تب تک تم پر کچھ مطالبہ نہیں اور ان کو (ایک جوڑا) برتنے کو دو ۔ مالدار پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی طاقت کے مطابق دینا لازم ہے۔ شرعی دستور کے مطابق انہیں فائدہ پہنچاؤ ،یہ بھلائی کرنے والوں پر واجب ہے۔

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے۔۔

{مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ: جب تک تم نے انہیں نہ چھوا ہو۔} آیت میں مہر کے چند مسائل کا بیان ہے: جس عور ت کا مہر مقرر کئے بغیر نکاح کردیا گیاہو، اگر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی تو کوئی مہر لازم نہیں ،ہاتھ لگانے سے ہم بستری کرنا مراد ہے اور خَلْوتِ صحیحہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مہر کا ذکر کئے بغیر بھی نکاح درست ہے مگر اس صورت میں اگر خَلْوت ِ صحیحہ ہو گئی یا دونوں میں سے کوئی فوت ہو گیا تو مہر مثل دینا واجب ہے بشرطیکہ نکاح کے بعد انہوں نے آپس میں کوئی مہر طے نہ کرلیا ہوپ

فتاوی ہندیہ میں ہے

“والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لايسقط منه شيء بعد ذلك “.

مہرتین میں سے ہر صورت میں لازم ہو جاتا ہے

دخول ‘ خلوت صحیحہ اور ذوجین میں سے کسی ایک کی وفات سے برابر ہے وہ میر بیان کیا ہو یا مہر مثل ہو یہانتک کہ اس میں سے کچھ ساقط نہ ہو گا

الفتاوى الهندية (1 / 303

فتح القدیر میں ہے

( وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشْرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا )

جس نے دس درھم مہر مقرر کیااور اس پر ذیادتی نہ کی ۔تو اس پر مقرر کردہ ہے اگر دخول ہوا یا وہ فوت ہو گیا

فتح القدير للمحقق ابن الهمام الحنفي – (7 / 106)

تبیین القائق میں ہے

إذا سمى لها مهرا ، ثم زادها تجب الزيادة مع المسمى فيجبان جميعا إذا دخل بها أو مات عنھا

جب عورت کے لیے مہر مقرر کیا پھر اس پر زیادتی کی تو دونوں جتنا بیان کیے اتنے لازم ہو جائیں گے ۔جب اسنے دخول کیا یا وہ مرد فوت ہو گیا

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي – (2 / 141)

فتاوی رضویہ میں ہے سوال ہوتا ہے کہ

مسئلہ ۲۲: ۵شعبان ۱۳۱۵ھ۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح ایّام نابالغی میں زید کے ساتھ ہُوا اور نکاح کے روز سے ایک لمحہ کو بھی ہندہ زید کے گھر نہیں گئی اور نہ ہم صحبت ہوئی اس صورت میں ہندہ مہر چاہے تو پاسکتی ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب۔ سائل مظہر کہ زن وشو نے انتقال کیا اور اُن میں ایک کامرجانا

بھی مہر کو مؤکد کرتا ہے، پس صورتِ مذکورہ میں کُل مہر ہندہ ترکہ زید پر لازم ہے جبکہ وُہ نکاح لازم واقع ہُوا جیسا کہ اَب وجد نے کیا یا نافذ غیرلازم تھا اور پیش از  رد، احد الزوجین کا انتقال ہوگیا۔ فی الدرالمحتار، یتأکد عند وطء او خلوۃ صحت او موت احدھما ۲؎الخ۔

درمختار میں ہے: وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت سے مہر لازم ہوجاتا ہے الخ(ت)

(فتاوی رضویہ ج ١٢ ص ١٦ ایپ)

وَاللہُ اَعْلَمُ  عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب ۔؛ مولانا فرمان رضا مدنی

نظر ثانی۔: ابو احمد مولانا مفتی انس قادری مدنی

Leave a Comment