سیاست و امارت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ

سیاست و امارت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ
محترم قارئینِ کرام : صحابی رسول ، کاتبِ وحی ، خالُ المؤمنین و خلیفۃُ المسلمین حضرتِ سَیِّدُنا امیر ِمُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (جو کہ اوّل ملوکِ اسلام (پہلے سلطانِ اسلام) بھی ہیں) بعثتِ نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے ۔ (دلائل النبوۃللبیھقی،ج6، ص243، ملتقطاً۔ تاریخ ابن عساکر،ج3، ص208۔ الاصابۃ،ج6، ص120، بہارشریعت،ج1، ص258)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابی رسول حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے اور اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھائی ہیں ۔ آپ کی شان میں کئی احادیث مروی ہیں ۔ حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے بارے میں یوں دعا فرمائی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! انہیں (امیر معاویہ کو) ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور اِن کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (ترمذی،ج5، ص455، حدیث: 3868،چشتی)
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیس سال تک حکومتی مَنْصَب پر جلوہ اَفروز رہے ۔ جن میں 10 سال امیر المومنین حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے عادل و نَقَّاد خلیفہ کا سنہری دور بھی شامل ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے : تم قیصر و کِسریٰ اور ان کی عقل و دانائی کا تذکرہ کرتے ہو جبکہ معاویہ بن ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ موجود ہیں ۔ (تاریخ طبری،ج3، ص264)
حضرت سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانَۂ خلافت میں اِسلامی سلطنت خُراسان سے مغرب میں واقع افریقی شہروں اور قُبْرُص سے یَمَن تک پھیل چکی تھی ۔
حضرت سیدنا مولا علی المرتضیٰ مشکل کشاء رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا : امارت معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (البدایہ والنہایہ عربی صفحہ نمبر 131)
مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نا پسند نہ کرو اگر تم نے انہیں کھو دیا تو سر گردنوں سے گرینگے جیسے حنظل گرتا ہے ۔ (مصنفف ابن ابی شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 765 مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں اتنا اہمیت و قدر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مگر نام نہاد محبانِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بغض حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں مرے جا رہے ہیں اور کھلے و سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی توہین پہ توہین کرتے چلے جا رہے ہیں کیا ذرا سوچو تم لوگ کیا کر رہے ہو فرامین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو جھٹلا اور ان کی توہین کر رہے ہو ۔ فرمان حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اگر تم نے انہیں کھو دیا پر توجہ فرمائیں ۔
امام حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی ، صلح کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت منھج رسول ، منھج خلفاء راشدین پے رہی الا چند مجتہدات کے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت عادلہ راشدہ کہلائی تو ایسی حکومت زندہ باد کیوں نہ ہو ؟ ایسی سیاست و کردار کا فیضان کیوں نا جاری رہے ؟
وقد كان ينبغي أن تلحق دولة معاوية وأخباره بدول الخلفاء وأخبارهم فهو تاليهم في الفضل والعدالة والصحبة ۔
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے جب حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دی انکی بیعت کی ، ان سے صلح کی تو اس کے بعد سیدنا معاویہ کی حکومت خلفاء راشدین کی حکومت کی طرح حکومت عادلہ و راشدہ کہلانی چاہیے اور سیدنا معاویہ کے اقوال و اخبار بھی خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے اقوال و اخبار کی طرح کہلانے چاہیے کیونکہ فضیلت عدالت اور صحابیت میں سیدنا معاویہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد ہیں ۔ (تاریخ ابن خلدون2/650،چشتی)
فأرسل إِلَى معاوية يبذل له تسليم الأمر إليه، عَلَى أن تكون له الخلافة بعده، وعلى أن لا يطلب أحدًا من أهل المدينة والحجاز والعراق بشيء مما كان أيام أبيه، وغير ذلك من القواعد، فأجابه معاوية إِلَى ما طلب، فظهرت المعجزة النبوية في قوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إن ابني هذا سيد يصلح اللَّه به بين فئتين من المسلمين “.ولما بايع الحسن معاوية خطب الناس ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ خلافت و حکومت معاویہ کو دینے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت انہیں ملے گی اور یہ بھی شرط کی کہ اہل مدینہ اہل حجاز اور اہل عراق میں سے کسی سے بھی کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط رکھیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوگیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ میرا بیٹا یہ سید ہے اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا اور سیدنا حسن پاک رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو خطبہ بھی دیا ۔ (أسد الغابة ,2/13)
امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرو ، اطاعت کرو
جمع الحسن رءوس أهل العراق في هذا القصر قصر المدائن- فقال: إنكم قد بايعتموني على أن تسالموا من سالمت وتحاربوا من حاربت، وإني قد بايعت معاوية، فاسمعوا له وأطيعو ۔
ترجمہ : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے مدائن کے ایک محل میں عراق وغیرہ کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی اس بات پر کہ تم صلح کر لو گے اس سے جس سے میں صلح کروں اور تم جنگ کرو گے اس سے جس سے میں جنگ کروں تو بے شک میں نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے تو تم بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات سنو مانو اور اطاعت کرو ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ,2/65،چشتی)
قَالَ كَعْب الْأَحْبَار لم يملك أحد هَذِه الْأمة مَا ملك مُعَاوِيَة ۔
ترجمہ : سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جیسی (عظیم عادلہ راشدہ) بادشاہت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی ایسی کسی کی بادشاہت نہیں تھی ۔ (صواعق محرقہ2/629)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو کثرت سے کرم نوازی کرنے والا ، حلم و بردباری والا، سخاوت کرنے والا نہیں پایا ۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ,9/357 روایت15921)(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/441)
ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ:مَا رَأَيْتُ رَجُلاً كَانَ أَخْلَقَ لِلمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَ ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کے میں نے (رسول کریم اور خلفاء راشدین وغیرہ مستحقین کے بعد) معاویہ سے بڑھ کر حکومت کے لیے بادشاہت کے لیے کسی کو عظیم مستحق ترین , لائق ترین اور عظیم اخلاق والا نہیں پایا ۔ (سير أعلام النبلاء3/153)
عَنِ ابْن عُمَر، قَالَ: مَا رأيت أحدا بعد رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أسود من مُعَاوِيَة. فقيل لَهُ: فأبو بَكْر، وَعُمَر، وعثمان، وعلي! فَقَالَ: كانوا والله خيرا من مُعَاوِيَة، وَكَانَ مُعَاوِيَة أسود منهم ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو کثرت سے کرم نوازی کرنے والا ، حلم و بردباری والا، سخاوت کرنے والا نہیں پایا … کسی نے پوچھا کہ ابوبکر عمر عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے بھی زیادہ ۔۔۔؟ فرمایہ کہ یہ سب حضرات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے مگر کثرت کرم نوازی بردباری سخاوت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ تھے ۔ (الاستيعاب في معرفة الأصحاب ,3/1418،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم
أوصى أن يكفن فِي قميص كَانَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قد كساه إياه، وأن يجعل مما يلي جسده، وَكَانَ عنده قلامة أظفار رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأوصى أن تسحق وتجعل فِي عينيه وفمه ۔
ترجمہ : سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں کفن میں وہ قمیض پہنائی جائے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنائی تھی اور سیدنا معاویہ کے پاس حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ناخن مبارک کے ٹکڑے تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ وہ ان کی آنکھوں اور منہ پر رکھے جائیں ۔ (أسد الغابة ,5/201)
جہاد و فتوحاتِ اور انقلابی کارنامے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
اسلامی شہروں سازشوں کے ذریعے فتنہ پھیلانے والے خَوارِج کی سرکوبی فرمائی، یہاں تک کہ فتنہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ۔ آپ کے حکم سے تاریخ کی پہلی کتاب کتابُ المُلُوك وَ اَخبَارُ الْمَاضِین لکھی گئی ۔ (التراتیب الاداریہ،ج2،ص322) ، 28 ہجری میں اسلام کی سب سے پہلی بحری فوج کی قیادت فرمائی اور قُبْرُص کو فتح کیا ۔ (شرح ابن بطال ،ج5، ص11، تحت الحدیث: 2924)
بحری جہاز بنانے کے لئے 49ہجری میں کارخانے قائم فرمائے اور ساحل پر ہی تمام کاریگروں کی رہائش وغیر ہ کا انتظام کردیا تاکہ بحری جہاز بنانے کے اہم کام میں خَلل واقع نہ ہو ۔ (فتوح البلدان،ص161)
مکتوبات پر مہر لگانے کا طریقہ رائج فرمایا جس کا سبب یہ بنا کہ آپ نے ایک شخص کیلئے بَیْتُ المال سے ایک لاکھ درہم دینے کا حکم تحریر فرمایا لیکن اس نے تَصَرُّف کرکے اسے ایک کے بجائے دو لاکھ کردیا،آپ کو جب اس خیانت کا عِلْم ہوا تو اُس کا مُحاسَبَہ فرمایا اور اس کے بعد خُطوط پر مہر لگانے کا نِظام نافِذ فرما دیا ۔ (تاریخ الخلفا، صفحہ 160،چشتی)
سرکاری خُطوط کی نقل محفوظ رکھنے کا نظام بنایا ۔ (تاریخ یعقوبی،ج2، ص145)
سب سے پہلے کعبہ شریف میں منبر کی ترکیب بنائی ۔ (تاریخ یعقوبی،ج2، ص131)
اور سب سے پہلے خانہ کعبہ پر دِیبا و حَرِیر (یعنی ریشم) کا قیمتی غلاف چڑھایا اور خدمت کے لیے مُتَعَدِّد غلام مُقَرَّر کیے ۔ (تاریخ یعقوبی، ج2، ص150)
عوام کی خیرخواہی کیلئے شام اور روم کے درمیان میں واقع ایک مَرْعَش نامی غیر آباد علاقے میں فوجی چھاؤنی قائم فرمائی ۔ (فتوح البلدان، ص265)
اَنْطَرطُوس، مَرَقِیَّہ جیسے غیر آباد علاقے بھی دوبارہ آباد فرمائے ۔ (فتوح البلدان، ص182)
نئے آباد ہونے والے علاقوں میں جن جن چیزوں کی ضرورت تھی ،اُن کا انتظام فرمایا مثلاً لوگوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے نہری نظام قائم فرمایا ۔ (فتوح البلدان، ص499)
رعایا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے محکمہ بنایا جس کے تحت ہر علاقے میں ایک ایک افسرمقرر تھا تاکہ وہ لوگوں کی معمولی ضرورتیں خودپوری کرے اوربڑی ضرورتوں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آگاہ کرے نیزان کو کسی بھی گھر میں آنے والے مہمان یا بچے کی ولادت کے بارے میں معلومات رکھنے کا حکم دیا تاکہ ان کے وظائف کی ترکیب بنا سکیں ۔ (البدایہ و النہایہ،ج8،ص134،مراٰۃ المناجیح،ج5،ص374 )
وفي سنة ثلاث وأربعين فتحت الرخج وغيرها من بلاد سجستان، وودان من برقة، وكور من بلاد السودان ۔ وفي سنة خمس وأربعين فتحت القيقان قوهستان ۔
خلاصہ : رخج وغیرہا کئ ممالک سجستان ودان کور سوڈان قعقان قوہستان وغیرہ کئ ممالک سلطنتیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوئے…عرب تا افریقہ تک تقریبا آدھی دنیا پر سیدنا معاویہ کی حکومت تھی ۔ (تاريخ الخلفاء)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہلبیت و امام حسن رضی اللہ عنہم کی تعظیم و خدمت
اس صلح کے وقت واقعہ یہ ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور فرمایا کہ آپ جو شرائط صلح چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہے ،ا مام حسن رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اتنا روپیہ سالانہ بطور وظیفہ ہم کو دیا جایا کرے اور آپ کے بعد پھر خلیفہ ہم ہوں گے، آپ نے کہا مجھے منظور ہے ۔ چنانچہ آپ سالانہ وظیفہ دیتے رہے اس کے علاوہ اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے ، ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔چنانچہ آپ نے اربعۃ مائۃ الف الف نذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ ۔ (مرقات) جب امام حسن رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ، کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وآلہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں ۔ (مراۃ شرح مشکوٰۃ 8/460)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خدمت
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تحفے تحائف تک بھیجا کرتے تھے جو اس طرف واضح اشارہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول کریم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا خیال رکھا کرتے تھے ۔
أَهْدَى مُعَاوِيَةُ لِعَائِشَةَ ثِيَابًا وَوَرِقًا وَأَشْيَاءَ ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو کپڑے اور چاندی کے سکے(نقدی) اور دیگر چیزیں تحفے میں بھیجیں ۔(حلية الأولياء 2/48)
أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ ۔
ترجمہ : (رسول کریم ﷺنے حسن حسین وغیرہ اہلبیت سے فرمایا) تم جس سے جنگ کرو میری اس سے جنگ ہے،تم جس سے صلح کرو میری اس سے صلح ہے ۔ (صحیح ابن حبان حدیث6977)،(شیعہ کتاب بحار الانوار32/321)
شیعہ ، رافضی ، نیم رافضی سچے مسلمان نہیں ، سچے محب اہلبیت نہیں ….. حسنی حسینی سچا مسلمان اور سچا محب اہلبیت وہ ہےجو یزیدیت سے جنگ اور معاویت سے صلح رکھے ، زبان قابو میں رکھے کیونکہ حجرت سیدنا امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنھما نے حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے جنگ کی …… اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی صلح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح اور انکی جنگ رسول کریم کی جنگ ہے ۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث و سنت کی اتباع و پیروی اور عوام کی فلاح
أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ ،فَقَالَ: مَا أَنْعَمَنَا بِكَ….فَقُلْتُ: حَدِيثًا سَمِعْتُهُ أُخْبِرُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ، وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ، وَفَقْرِهِ» قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ ۔ (ابوداود حدیث2948بالحذف الیسیر)
ترجمہ : صحابی سیدنا ابو مریم الازدی رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کی تشریف آوری سے ہمارا دل باغ بہار ہوگیا ، فرمائیے کیسے آنا ہوا …….؟؟ صحابی ابو مریم الازدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث پاک سنانے آیا ہوں “رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ نے مسلمانوں کی حکومت (لیڈری، ذمہ داری، عھدے داری) سے نوازا ہو اور وہ لوگوں پر اپنے دروازے بند کر دے حالانکہ لوگ تنگ دستی میں ہوں حاجات والے ہوں اور فقر و فاقہ مفلسی والے ہوں تو اللہ قیامت کے دن ایسے (نا اہل) حکمران و ذمہ دار پر (رحمت کے ، جنت کے) دروازے بند کر دے گا حالانکہ وہ تنگ دست ہوگا حاجت مند ہوگا مفلس و ضرورت مند ہوگا …” صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیث پاک سنتے ہی فورا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حاجات و مسائل کے سننے ، حل کرنے ، مدد کرنے کے لیے ایک شخص کو مقرر کر دیا ۔ (ابوداود حدیث2948بالحذف الیسیر)
سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے جب حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سپرد کردی اور بیعت کی اور ان کی بیعت کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دے دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ متبع سنت تھے عادل و راشد تھے عاشق رسول تھے صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم وغیرہ کا احترام و خدمت کرتے تھے اور اپنی حکومت منھج سنت و منھج ِ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم پر چلائی الا بعض اجتہادی مسائل کے اور بخاری میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فقیہ یعنی مجتہد تھے تو ثابت ہوا کہ ان کی حکومت اچھی عادلہ راشدہ تھی اس لیے ان کی سیاست زندہ باد کہنا اور فیضان معاویہ رضی اللہ عنہ جاری رہے گا کا نعرہ لگانا بے جا نہیں برحق و سچ ہے … ہاں یزید ملعون کی سیاست و حکومت یزیدت مردہ باد لیکن والد کی وفات کے بعد بیٹے کے کرتوت ہوں تو اس کی وجہ سے باپ پر کوئی الزام حرف نہیں آتا ۔
آپ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں فتوحات کا سلسلہ انتہائی برق رفتاری سے جاری رہا اور قلات ، قندھار، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ،شمالی افریقہ ،جزیرہ روڈس ،جزیرہ اروڈ ،کابل ،صقلیہ (سسلی ) سمیت مشرق ومغرب ،شمال وجنوب کا 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔ ان فتوحات میں غزوہ قسطنطنیہ ایک اہم مقام رکھتاہے ۔ یہ مسلمانوں کی قسطنطنیہ پر پہلی فوج کشی تھی ، مسلمانوں کا بحری بیڑہ سفیان ازدی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روم سے گزر کر قسطنطنیہ پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب شام پر لشکر کشی ہوئی تو حضرت ابو سفیان کے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ رضی اللہ عنہم اس فوج کے آفیسر تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے وہاں غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت یزید بن ابی سفیان کو شام کا گورنر مقرر کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کو ان کا نائب بنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان عہدوں پر بحال رکھا۔ 19/640 میں حضرت معاویہ نے رومیوں کی مشہور فوجی چھاؤنی “قیساریہ” کو فتح کر لیا۔ اگلے برس ان کے بھائی یزید نے طاعون کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ حضرت معاویہ کو مقرر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روم، قیصر کے قبضے سے نکل رہا تھا۔ حضرت معاویہ نے رومن ایمپائر کی افواج کو پے در پے شکستیں دے کر پورے شام کو فتح کر لیا۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں سے کم ہی مطمئن ہوتے تھے اور ان کا تبادلہ کرتے رہتے تھے۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی پرفارمنس تھی، جس کی وجہ سے حضرت عمر نے اتنے غیر معمولی اور حساس صوبے پر آپ کو گورنر مقرر کیے رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہدے پر بحال رکھا اور ان کے حسن انتظام کی وجہ سے دیگر علاقے بھی انہی کی گورنری میں دے دیے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موجودہ ترکی کا تیس فیصد حصہ فتح کر لیا اور ماضی کی عظیم ایسٹرن رومن ایمپائر جو کئی صدیوں سے ایشیا اور افریقہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے تھی، کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں قیصر روم، جو کبھی تین براعظموں پر حکومت کرتا تھا، اب محض موجودہ ترکی کے تھوڑے سے حصے تک محدود ہو کر رہ گیا۔
یہی وجہ ہے کہ مشہور مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے جب تاریخ انسانی کی موثر ترین 200 شخصیات کی فہرست تیار کی، تو مسلمانوں میں سے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر کے بعد تیسرے نمبر پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو رکھا ۔
(Hart, Micheal H. The 100. A Ranking of the Most Influential Persons in History. P. 510. New York: Carol Publishing Group Edition (1993).
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تاریخ اسلامی کی پہلی بحری فوج تیار کی جس نے بحیرہ روم پر قیصر کے قبضے کو ختم کر دیا۔ آپ نے بحیرہ روم کے ساحلوں پر جہاز سازی کی عظیم صنعت قائم کی جس نے ابتدائی سالوں ہی میں عالم اسلام کو 1700 جنگی جہازوں سے مسلح کر دیا۔ اس سے دنیا کے اہم ترین سمندروں پر مسلمانوں کے غلبے کا جو آغاز ہوا، وہ گیارہ سو برس تک قائم رہا۔ آپ نے جزیرہ قبرص (Cyprus)، روڈس (Rhodes) بعد میں سسلی کو بھی فتح کر لیا جو موجودہ اٹلی کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس طرح یورپ میں مسلمانوں کے قدم پہلی مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے ذریعے پہنچے۔ ان تمام علاقوں کا حسن انتظام ایسا تھا کہ جس کی مثال عالم اسلام کے دیگر مفتوحہ علاقوں میں نہیں ملتی ہے۔ آپ کے علاقوں میں بغاوتیں نہ ہونے کے برابر رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس عراق، ایران، خراسان، مصر وغیرہ میں آئے دن بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ وہ خوبیاں ہیں، جن کا اعتراف مخالف و موافق سبھی کرتے ہیں۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک خود مختار حکمران کے طور پر رہے لیکن آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضل اور کمالات کے معترف تھے ۔ آپ کا اختلاف صرف یہ تھا کہ باغی تحریک کو قرار واقعی سزا دی جائے یا پھر حضرت سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ ، ان کے خلاف کاروائی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے راستے میں حائل نہ ہوں ۔ یہ حضرت سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ کے بیٹے امام حسن رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے امت مسلمہ کو متحد کیا ۔
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے رومن ایمپائر سے جہاد کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ قیصر روم اپنی ترکی کی چھوٹی سی حکومت پر قانع نہ تھا اور ایشیا اور افریقہ میں اپنا اقتدار دوبارہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ وہ کئی مرتبہ شام پر لشکر کشی کر چکا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے مقابلے کے لیے دو افواج تیار کیں جو سردی اور گرمی کی افواج کہلائیں۔ اگر آپ تاریخ طبری میں حضرت معاویہ کے دور کا مطالعہ کریں تو ہر سال کے آغاز میں طبری لکھتے ہیں کہ اس سال فلاں نے سردیوں کا جہاد کیا اور فلاں نے گرمیوں کا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یلغاریں نہ صرف مغرب بلکہ مشرق میں بھی جاری رہیں ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگی مہمات
27-28ھ/ع648-649
فتح قبرص (Cyprus)
32ھ/ع653
قسطنطنیہ (استنبول)
33ھ/ع653
افطرنطیہ،ملطیہ اور روم کے بعض علاقوں کو فتح
35ھ/ع655
ذی خشب کی مہم
42ھ/ع662
سجستان (موجودہ افغانستان اور پاکستان میں مشترک علاقہ) کی مہم
43ھ/ع663
فتح سوڈان
44ھ/ع664
فتح کابل
45ھ/ع665
لیبیا اور الجزائر کے بعض علاقوں کی فتح
46ھ/ع666
صقلیہ یا سسلی پر پہلا حملہ
50-51ھ/ع670-671
قسطنطنیہ کی پہلی مہم
54ھ/ع674
فتح بخارا
54ھ/ع674
قسطنطنیہ کی دوسری مہم
56ھ/ع676
فتح سمر قند
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صرف جنگی پلاننگ اور کاروائیوں ہی میں ماہر نہ تھے بلکہ آپ انتظامی اور علمی امور میں ایک غیر معمولی دماغ رکھتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ڈاک کا نظام قائم کیا تھا ، اسے غیر معمولی ترقی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ اس دور کا ایک مواصلاتی انقلاب (Communication Revolution) تھا ۔ اس نظام کی تفصیل یہ ہے کہ مختلف شہروں کے مابین ڈاک کی چوکیوں کا نیٹ ورک بنا دیا گیا ۔ ایک پوسٹ مین تیز رفتار گھوڑے پر ڈاک لے کر دوڑتا ۔ گھوڑے پر ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی جو اس کے دوڑنے سے بجتی تھی ۔ اس کی آواز سن کر لوگ گھوڑے کو راستہ دے دیتے اور اسی آواز کو سن کر اگلی چوکی کا پوسٹ مین تیار رہتا۔ جیسے ہی پہلا پوسٹ مین وہاں پہنچتا، تو اگلا پوسٹ مین اس سے ڈاک لے کر گھوڑے کو دوڑا دیتا ۔ یہی سلسلہ تیسری ، چوتھی اور اگلی چوکیوں پر جاری رہتا ۔ اس طرح بہت کم وقت میں ایک شہر سے ڈاک دوسرے شہر پہنچ جاتی ۔ ڈاک ہی سے متعلق ایک اور محکمہ کی ایجاد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے اور وہ تھا خطوط کے لیے مہریں تیار کرنے اور ان پر لگانے کا محکمہ ۔ آج کے دور میں یہ بڑا غیر اہم لگتا ہے لیکن اسی کی بدولت نہایت اہم سرکاری خطوط اور دستاویزات میں جعل سازی کا خاتمہ ہوا ۔ (تاریخ طبری۔ 4/1-133)
اس سے یقینی طور پر باغی تحریک کو بڑا نقصان ہوا ہو گا کیونکہ وہ جعل سازی کے فن میں ید طولی رکھتے تھے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت کے استحکام میں اس کمیونی کیشن کے نظام سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ گورنر زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے انٹیلی جنس نظام کا یہ عالم تھا کہ افغانستان میں کسی کی رسی بھی چوری ہوتی تو انہیں بصرہ میں اس کا علم ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پورے بیس برس میں باغی تحریک کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا اور جب انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کچھ سر اٹھایا تو اسے بڑی آسانی سے کچل دیا گیا۔ اس کسمپرسی کے سبب باغیوں میں جو فرسٹریشن پیدا ہوئی، اسے انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پراپیگنڈا کی شکل دے دی ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف سیاسی بلکہ علمی میدان میں بھی غیر معمولی پراجیکٹ شروع کیے ۔ آپ کو سائنس سے خاص دلچسپی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اہل یونان کی سائنس کی کتب کا خاص طور پر ترجمہ کروایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے اپنے خاندان میں ایک اتنا بڑا سائنسدان پیدا ہوا جس کی صلاحیت کا لوہا اہل مغرب نے بھی مانا۔ آپ کے پوتے خالد بن یزید بن معاویہ کو کیمسٹری اور میڈیسن (گویا بائیو کیمسٹری) سے غیر معمولی شغف حاصل تھا اور انہیں مسلم دنیا کا پہلا کیمیائی سائنسدان قرار دیا گیا ہے ۔
ان کے متعلق چند اہل علم کی آراء ہم یہاں درج کر رہے ہیں ۔
ابن خلکان لکھتے ہیں : ابو ہاشم خالد بن یزید بن معاویہ بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما ۔ قریش میں فنی علوم میں سب سے مشہور تھے اور کیمسٹری اور طب کی صنعتوں میں ان کا کلام موجود ہے ۔ وہ ان علوم میں بہت بڑے ماہر تھے اور ان کے علم اور ذہانت کا ثبوت ان کے رسائل ہیں ۔ انہوں نے یہ علوم ایک راہب، مریانس راہب رومی سے حاصل کیے۔ ان کے تین رسائل ہیں جن میں سے ایک میں مریانس راہب کے ساتھ ان کا معاملہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اس سے یہ علوم کیسے سیکھے ۔ (ابن خلکان (608-681/1212-1282)۔ وفیات الاعیان۔ شخصیت نمبر 212۔ 2/224۔ بیروت: دار الصادر،چشتی)
مشہور برطانوی ماہر طب ایڈورڈ براؤن لکھتے ہیں : دمشق کا جان (John of Damascus)، جن کا لقب کرسوروس اور عربی نام منصور ہے، پر پہلے اموی خلیفہ معاویہ نے بہت سے احسانات کیے۔ عربوں میں یونانی دانش کے علم کی خواہش سب سے پہلے اموی شہزادے، خالد بن یزید بن معاویہ کے ہاں پیدا ہوئی جنہیں کیمسٹری (Alchemy) کا جنون تھا۔ فہرست (ابن الندیم کی مشہور کتاب جس میں اس دور تک کی ہزاروں کتب کا تعارف موجود ہے) کے مطابق، جو اس بارے میں ہماری معلومات کا سب سے قدیم اور سب سے بہتر ذریعہ ہم تک پہنچا ہے، خالد نے یونانی فلسفیوں کو ملک مصر میں اکٹھا کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس مضمون کی یونانی اور مصری تصانیف کو عربی زبان میں ترجمہ کریں۔ فہرست کے مصنف کا کہنا ہے کہ اسلامی (تاریخ) میں یہ وہ پہلی کتابیں تھیں جو ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ ہو کر آئیں۔ اسی شہزادے کے ساتھ مشہور کیمیا دان جابر بن حیان بھی کام کرتے تھے جو کہ قرون وسطی کے یورپ میں Geber کے نام سے مشہور ہیں ۔
( Browne, Edward G. MB, FRCP. Arabian Medicine. P. 15. London: Cambride University Press (1921)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مفتوحہ اقوام کے علوم کو سیکھنے کی تحریک نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تیزی اختیار کی ۔ پھر انہی علوم کی بدولت اس دور کے مسلمانوں نے وہ بنیاد رکھی، جس پر بنو امیہ، بنو عباس اور پھر سلطنت عثمانیہ کی عالیشان عمارت 1200 سال تک کھڑی رہی ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے محبت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو محبت تھی، اس کا اندازہ اس بات سےکیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “میں نے نماز پڑھنے کے انداز میں کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اتنا مشابہ نہیں دیکھا ، جتنا کہ معاویہ تھے ۔ (ہیثمی۔ مجمع الزوائد ۔ کتاب المناقب ، ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان۔ حدیث 19520)
اُم علقمہ (مرجانہ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) مدینہ تشریف لائے تو سیدہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چادر اور بال مانگا۔ پھر انہوں نے چادر اوڑھ لی اور بال پانی میں ڈبو کر وہ پانی پیا اور اپنے جسم پر بھی ڈالا ۔ (تاریخ دمشق ۱۰۶/۶۲ و سندہ حسن، مرجانہ و ثقھا العجلی وابن حبان،چشتی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ ایک قمیص پہننے کے لیے دی تھی ۔ یہ قمیص آپ کے پاس محفوظ تھی ۔ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تراشے ہوئے ناخن ایک شیشی میں محفوظ کر لیے تھے۔ جب حضرت معاویہ کی جب وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی کہ اسی قمیص میں مجھے کفن دیا جائے اور مبارک ناخنوں کو رگڑکر میری آنکھوں اور منہ پر چھڑک دیا جائے۔ اپنے ذاتی مال کے بارے میں انہوں نے وصیت کی کہ اس کا آدھا حصہ بیت المال میں جمع کروا دیا جائے ۔ (تاریخ طبری۔ 4/1-131)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

تحریر:🖋۔ علامہ فرمان رضا رضوی
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا دانت توڑنے والا واقعہ موضوع ہے کتب احادیث سے ثابت نہیں اسلیے اسے ماتم کی دلیل بنانا جائز نہیں کہ روایات میں نوحہ کرنے اور ماتم کی ممانعت واضح موجود ہے۔۔
ملا علی بن سلطان القاری نے اپنی کتاب ’’المعدن العدني في فضل أويس القرني‘‘ میں نقل کیا ہے:
’’اعلم أن ما اشتهر على ألسنة العامة من أن أويساً قلع جميع أسنانه لشدة أحزانه حين سمع أن سنّ النبي صلى الله عليه وسلم أصيب يوم أحد ولم يعرف خصوص أي سن كان بوجه معتمد، فلا أصلَ له عند العلماء مع أنه مخالف للشريعة الغراء، ولذا لم يفعله أحد من الصحابة الكبراء على أن فعله هذا عبث لايصدر إلا عن السفهاء‘‘.
ترجمہ: جان لو کہ لوگوں کی جانب سے جو مشہور کیا جاتا ہے کہ اویسِ قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ دیے تھے رسول اللہ ﷺ کے دندان کے ٹوٹنے کے غم میں؛ کیوں کہ انہیں متعین طور پر معلوم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کا کون سا دانت ٹوٹا ہے (تو سارے توڑ دیے)۔ علماء کے نزدیک اس بات کی کوئی بنیاد نہیں، اور یہ خلافِ شریعت ہے۔ اس ہی وجہ سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے (جو اعلیٰ درجے کے عاشق تھے) کسی نے بھی ایسا نہ کیا؛ کیوں کہ یہ ایک عبث فعل ہے اور نادان لوگوں سے ہی صادر ہوسکتا ہے۔
(المعدن العدني في فضل أويس القرني، ص 403)
:
فقیہ اعظم ہند ، خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند ، شارح بخاری ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ ہے کہ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ سنا کہ غزوہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے ہیں تو انھوں نے اپنا سب دانت توڑ ڈالا اور انھیں کھانے کے لیے کسی نے حلوہ پیش کیا
۔ (فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ نمبر114 دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو)
حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں کہ یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے ۔ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ نمبر301، زاویہ پبلشرز، مرکزی دار الافتاء سودگران، بریلی شریف)
اویسیہ، جلد1، صفحہ نمبر288، صدیقی پبلشرز کراچی،)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّة ۔
ترجمہ : جو شخص منھ پر طمانچے مارے، گریبان چاک کرے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح چیخ وپکار کرے وہ ہمارے دین پر نہیں ہے۔
صحيح البخاری ،جلد1، صفحہ 436، رقم 1235، دار ابن کثير، اليمامة بيروت لبنان]
[صحيح المسلم ،جلد 1 صفحہ 99، رقم : 103، دار احياء التراث العربي بيروت لبنان]
[مسند احمد، جلد 1 ، صفحہ 386، رقم 3658، مؤسسة قرطبة مصر]
[السنن الکبری، جلد1، صفحہ 611، رقم : 1989، دار الکتب العلمية بيروت لبنان
حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے : اِثْنَتَانِ فِیْ النَّاسِ ھُمَا بِھِمْ کُفْرٌ: اَلطَّعْنُ فِیْ النَّسَبِ وَالنِّیَاحَۃُ عَلیَ الْمَیِّتِ ۔ ) ۔ ترجمہ : دوچیزیں لوگوں میں رائج ہیں حالاں کہ وہ کفر سے ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا ۔
ان احادیث سے صاف طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوحہ و ماتم حرام ہے۔اور اس کی تعبیر کفر سے کی گئی ہے ۔
(مسلم،اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب)
اور اگر مدمقابل مسلک کا یہ قبول بھی کر لیا جائے کہ ان کے نزدیک یہ واقعہ ثابت ہے تو مندرجہ ذیل باتوں پر عمل لازم ہونا چاہیے
کہ وہاں جنگ احد میں نبی پاک علیہ السلام کا دانت شہید ہوا تو یہاں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے اپنے دانت شہید کر لیے تو اس دلیل سے وہ ماتم کرتے ہیں ۔۔
پہلی تو بات یہ ہے کہ حضرت اویس قرنی نے اپنے دانت ماتم کی وجہ سے نہیں عشق کی وجہ سے شہید کیے اور یہاں سوگ میں رہ کر ماتم کے طور پر زنجیر چلائے جاتے ہیں۔۔
اور پھر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کےدانت شہید مناسبت مصطفیﷺ سے ہوئے
تو یہاں بھی کچھ مناسبت ہونی چاہیے کہ وہاں سر اترے وہ شہید ہوئے اور انکو نیزے لگے تو مناسبت تامہ قائم کرتے ہوئے یہاں بھی کچھ ایسا ہو نہ کہ صرف صدیوں پرانی روایت کے مطابق زنجیر چلا لیتے یا سینے پر ہاتھ مار کر لیتے ۔۔۔
واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل صلی اللہ علیہ والہ وسلم

Leave a Comment