سوال:کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماتم کے جواز پر یہ دلیل دینا کیسا ہے کہ حضرت اویس قرنی نے حضور علیہ السلام کے دانت شہید ہونے پر اپنے دانت توڑ دیے تھے؟

علامہ فرمان رضا رضوی

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا دانت توڑنے والا واقعہ موضوع ہے کتب احادیث سے ثابت نہیں اسلیے اسے ماتم کی دلیل بنانا جائز نہیں کہ روایات میں نوحہ کرنے اور ماتم کی ممانعت واضح موجود ہے۔۔

ملا علی بن سلطان القاری  نے اپنی کتاب ’’المعدن العدني في فضل أويس القرني‘‘ میں نقل کیا ہے

’’اعلم أن ما اشتهر على ألسنة العامة من أن أويساً قلع جميع أسنانه لشدة أحزانه حين سمع أن سنّ النبي صلى الله عليه وسلم أصيب يوم أحد ولم يعرف خصوص أي سن كان بوجه معتمد، فلا أصلَ له عند العلماء مع أنه مخالف للشريعة الغراء، ولذا لم يفعله أحد من الصحابة الكبراء على أن فعله هذا عبث لايصدر إلا عن السفهاء‘‘.

ترجمہ: جان لو کہ لوگوں کی جانب سے جو مشہور کیا جاتا ہے کہ اویسِ قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ دیے تھے رسول اللہ ﷺ کے دندان کے ٹوٹنے کے غم میں؛ کیوں کہ انہیں متعین طور پر  معلوم نہیں تھا کہ آپ ﷺ کا کون سا دانت ٹوٹا ہے (تو سارے توڑ دیے)۔ علماء کے نزدیک اس بات کی کوئی بنیاد نہیں، اور یہ خلافِ شریعت ہے۔ اس ہی وجہ سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے (جو اعلیٰ درجے کے عاشق تھے) کسی نے بھی ایسا نہ کیا؛ کیوں کہ یہ ایک عبث فعل ہے اور نادان لوگوں سے ہی صادر ہوسکتا ہے۔

(المعدن العدني في فضل أويس القرني، ص 403)

:

فقیہ اعظم ہند ، خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند ، شارح بخاری ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ ہے کہ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ سنا کہ غزوہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے ہیں تو انھوں نے اپنا سب دانت توڑ ڈالا اور انھیں کھانے کے لیے کسی نے حلوہ پیش کیا

۔ (فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ نمبر114 دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو)

حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں کہ یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے ۔ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ نمبر301، زاویہ پبلشرز، مرکزی دار الافتاء سودگران، بریلی شریف)

اویسیہ، جلد1، صفحہ نمبر288، صدیقی پبلشرز کراچی،)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّة ۔ 

ترجمہ : جو شخص منھ پر طمانچے مارے، گریبان چاک کرے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح چیخ وپکار کرے وہ ہمارے دین پر نہیں ہے۔ 

۔ 

صحيح البخاری ،جلد1، صفحہ 436، رقم 1235، دار ابن کثير، اليمامة بيروت لبنان]

[صحيح المسلم ،جلد 1 صفحہ 99، رقم : 103، دار احياء التراث العربي بيروت لبنان]

[مسند احمد، جلد 1 ، صفحہ 386، رقم 3658، مؤسسة قرطبة مصر]

[السنن الکبری، جلد1، صفحہ 611، رقم : 1989، دار الکتب العلمية بيروت لبنان

حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے : اِثْنَتَانِ فِیْ النَّاسِ ھُمَا بِھِمْ کُفْرٌ: اَلطَّعْنُ فِیْ النَّسَبِ وَالنِّیَاحَۃُ عَلیَ الْمَیِّتِ ۔ ) ۔ ترجمہ : دوچیزیں لوگوں میں رائج ہیں حالاں کہ وہ کفر سے ہیں: نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا ۔

ان احادیث سے صاف طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوحہ و ماتم حرام ہے۔اور اس کی تعبیر کفر سے کی گئی ہے ۔

(مسلم،اطلاق اسم الکفر علی الطعن فی النسب)

اور اگر مدمقابل مسلک کا یہ قبول بھی کر لیا جائے کہ ان کے نزدیک یہ واقعہ ثابت ہے  تو مندرجہ ذیل باتوں پر عمل لازم ہونا چاہیے 

کہ وہاں جنگ احد میں نبی پاک علیہ السلام کا دانت شہید ہوا تو یہاں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے بقول ان کے اپنے دانت شہید کر لیے تو اس دلیل سے وہ ماتم کرتے ہیں ۔۔

پہلی تو بات یہ ہے کہ حضرت اویس قرنی نے اپنے دانت ماتم کی وجہ سے نہیں عشق کی وجہ سے شہید کیے اور یہاں سوگ میں رہ کر ماتم کے طور پر زنجیر چلائے جاتے ہیں۔۔

اور پھر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کےدانت شہید مناسبت مصطفیﷺ  سے ہوئے 

تو یہاں بھی کچھ مناسبت ہونی چاہیے کہ وہاں سر اترے وہ شہید ہوئے اور انکو نیزے لگے تو مناسبت تامہ قائم کرتے ہوئے یہاں بھی کچھ ایسا ہو نہ کہ صرف صدیوں پرانی روایت کے مطابق زنجیر چلا لیتے یا سینے پر ہاتھ مار کر لیتے ۔۔۔

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل صلی اللہ علیہ والہ وسلم

۔فرمان رضا رضوی

 

Leave a Comment